खुत्बा
उर्दू
महानामा लोगो
रमजान मुबारक 1439 हिजरी मई/जून 2018
पत्रिका डाउनलोड करें
टॉगल से संचालित करना
तख़लीक इंसानी का मक़सद पार्ट 01तख़लीक इंसानी का मक़सद पार्ट 01
घर पत्रिका तख़लीक़ इंसानी का मक़सद
मानव निर्माण का उद्देश्य (एपिसोड: 1)
आखिर सही क्या है और सीधा रास्ता कौन सा है? यह एक ऐसा प्रश्न है जो मनुष्य के मन में सदैव उठता रहा है और उसका उत्तर ही मानव व्यवहार का आधार है। इस सीधे रास्ते को दिखाने के लिए स्वर्ग के धर्म उतरे और पैगम्बरों ने इस प्रश्न का विस्तार से उत्तर दिया। आज भी इस प्रश्न का महत्व कम नहीं है, विशेषकर इन परिस्थितियों में, जब सभी गैर-मुस्लिम, धर्म से घृणा करने वाले, लादेन, उग्रवादी और इस्लाम का उपहास करने वाले यह मानते हैं कि वे गलत पक्ष में हैं, और यही दावा है मुसलमानों की। इस लेख में इसका संक्षिप्त और प्रारंभिक उत्तर दिया जाएगा, और ईश्वर की कृपा से अगले लेख में दीन-ए-हक की विशेषताओं की व्याख्या की जाएगी ।
यह हमारा विश्वास है कि इस्लाम वह धर्म है जिसे अल्लाह सर्वशक्तिमान ने मानव जाति के सच्चे मार्गदर्शन और कल्याण के लिए ठहराया है। اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫-) ترجمہ: بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ (پ3، اٰل عمرٰن:19)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے تمام انبیاء و مرسلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کادین اسلام ہی تھا اوراب اُس کی آخری کامل تصویر اور قطعی تعبیر وہ دین ہے جو محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کے لیے یہ دین مکمل کر دیاہے، چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:( اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-)ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام بطورِ دین پسند کیا۔ (پ6، المائدہ:3) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)اب آخرت کی نجات اسلام، بطورِ دین اپنانے اور محمدمصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت و رسالت پرصحیح ایمان لانے پر موقوف ہے، جیسا کہ فرمایا:( وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُۚ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۸۵)) ترجمہ: اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ (پ3، اٰل عمرا ن:85)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے، اس امت میں کوئی بھی شخص جو میری نبوت (کی خبر) سنے، خواہ وہ یہودی ہویا عیسائی، پھروہ اس (دین) پر ایمان لائے بغیر مر جائے جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے تو وہ جہنمی ہو گا۔‘‘ (مسلم، ص82، حدیث:386) ہدایت و فلاح کی حقیقی راہ صرف ’’اِسلام‘‘ ہے، اس کے علاوہ دیگر تمام راستے حق و حقانیت سے دور ہیں۔
دین کی ضرورت انسانی تخلیق کے اصل مقصد سے وابستہ ہے۔ تخلیق انسانی کامقصد کیا ہے؟ یہ بڑا بنیادی سوال ہے جس پر عموماً فلسفے کی کتابوں میں بحث کی جاتی ہے،یہاں اس کے جواب سے پہلے عمومی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اس فانی دنیا کی عیش و عشرت سے لطف اندوز ہوناہی مقصدِ حیات سمجھ رکھا ہے، وہ دین، ایمان، خدااور مذہب کوئی بات تسلیم نہیں کرتے۔ اُن کی نظر میں زندگی کی حقیقت یہی ساٹھ سترسال کا عرصہ کھانے، پینے، عیش و مستی میں گزار دینا ہےحالانکہ یہ صرف جسمانی تقاضے ہیں جوجانوروں میں بھی موجود ہیں بلکہ بعض اوقات انسانوں سے بڑھ کر پائے جاتے ہیں۔ اسے مقصد قرار دینے کی صورت میں توجانور، انسانوں سے بڑھ کر مقصد ِ زندگی پورا کرتے نظر آتے ہیں۔ اس نظریۂ ِ حیات میں انسان کا اخلاقی اور روحانی وجود بالکل فراموش ہے، نیز زندگی کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا کا کوئی تصور نہیں۔ یہ تصورِ حیات انسانیت کی تحقیراور جانوروں کا انسانوں سے بہتر ہونا ظاہر کرتا ہے۔
جسمانی لذات و خواہشات پر اکتفا کرنے والی اس طرز ِ حیات کا سبب یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی اپنی تخلیق کے مقصد کی طرف توجہ کرنا گوارا ہی نہیں کرتا تو زندگی آہستہ آہستہ حیوانیت کی سمت بڑھنا شروع ہوجاتی ہےاورخواہشات کی تکمیل کے طریقے سوچنا، منصوبے بنانا اورانہیں اپنانا ہی حاصل ِ زندگی بن جاتاہے۔ یہ بہت کم ترمقصد ِ حیات ہے جو عظمت و شرف ِ انسانی کے منافی ہے۔ اس میں انسانی وجود اور صلاحیتوں کے صحیح استعمال کی کوئی حقیقی ترغیب موجود نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے نظام ِ زندگی میں اگر قانون کا ڈنڈایاہمہ جہت اخلاقی تربیت ہوگی تو لوگ امن و سکون سے رہیں گے ورنہ جہاں قانون کمزور اور نظام ِ تربیت مفقود ہوا، وہاں شر کو خیر پر غلبہ پانے اور انسان میں موجود حیوانیت و بہیمیت ظاہر ہونے میں کچھ دیر نہیں لگے گی۔ اس لئےصرف قانون اور اخلاقی تربیت کے ستونوں پر پوری انسانی زندگی کی بنیادرکھنا درست نہیں کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جہاں قانون موجود نہیں وہاں برائی سے رُکنا نہیں پایا جائے اور جہاں تک اخلاقی تربیت کا تعلق ہے تو اُس کی حقیقت ایک خاص انداز پر ذہنی سوچ ڈھال دینا ہے لہٰذا یہ امر بآسانی ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے ذاتی و مادی مفادات کی خاطر اخلاقی قوانین کا اِنکار کردے۔ ایسی صورت میں کوئی اُس کا کیا بگاڑ سکتا ہےاور کون اسے اخلاق کی پیروی پر مجبور کرسکتا ہے؟ دوسری طرف اسلامی نظریہ حیات ہے جو خدا کا وجود تسلیم کرنے اور آخرت میں اعمال کا صلہ پانے پر مبنی ہے، جس میں دنیا کی فانی زندگی، آخرت کی دائمی زندگی کےلئے کھیتی کی مثل قرار دی گئی ہے کہ جو دنیامیں بوئے گا وہی آخرت میں کاٹے گا۔ دونوں نظریہ ِ حیات کا فرق اِس مثال سے یوں سمجھیں کہ اخلاق کا تقاضا ہے کہ اولاد کو ماں باپ کی خدمت کرنی چاہیے۔ یہ اخلاق دو طرح عمل میں آسکتا ہے، ایک تو اسلامی انداز میں کہ یہ خدا کی طرف سے عائد کردہ فرض ہے لہٰذا اسے پورا کرنا ضروری ہے ورنہ خدا کی بارگاہ میں جواب دینا ہوگا۔ یہ اسلامی سوچ جب تک زندہ ہے تب تک خدمت ِ والدین کےلئے لازمی مُحَرِّک ہو گی اورمسلمان جب تک مسلمان ہے وہ بارگاہِ الٰہی میں اِس کی جواب دہی کا انکار نہیں کرسکتا، اِس کے برعکس ماں باپ کی خدمت صرف اخلاق پر چھوڑ دیں تو لادین معاشرے کے لوگ اپنی لادینیت پر رہتے ہوئے جو کچھ اِس وقت کررہے ہیں، وہ یہ ہے کہ بوڑھے ماں باپ کو اولڈ ہوم میں داخل کرا کے اور ماہانہ یا سالانہ ملاقات کرکے خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں اور بزبانِ حال یہ کہتے ہیں: ’’ہم اپناآرام و سکون اور موج مستی اِن بوڑھوں کی کھانسی اور چڑچڑے پن کی نظر نہیں کرسکتے ۔‘‘ ’’انہوں نے اگرچہ ہمیں پالا ہے، لیکن ہم ان کے پالنے سے معذرت خواہ ہیں۔‘‘ ’’انہوں نے ہماری خاطر راتیں جاگی ہیں، لیکن ہم ان پر اپنی راتوں کے مزے قربان نہیں کرسکتے۔‘‘ ’’انہوں نے کما کرہمیں ضرور کھلایا ہے، لیکن ہمارا پیسہ بیوی، محبوبہ، گرل فرینڈز اور بچوں ہی پر خرچ ہوسکتا ہے۔‘‘ یہ ہے انکارِ خدا اور خالص مادیت پر مبنی وہ اخلاقی طاقت و تربیت جو ایک لمحے میں ریت کی دیوار کی طرح زمین بوس ہوجاتی ہے اور یہ ہے وہ طرزِ زندگی جس کا تربیت یافتہ، مہذب، قانون کا پابندکہلانے والے پورے مغربی معاشرے میں مشاہدہ کیا جارہا ہے۔ ماں باپ کی خدمت میں یہ فرق کہاں سے آتا ہے؟ یہ درحقیقت مسلمان اور غیر مسلم کے نظریہ حیات سے پیدا ہوتا ہے کہ قانون و تربیت کا وجود نہ بھی ہو، تب بھی خدا و آخرت پر سچا ایمان ہی اسے باوقار، بااخلاق، باکردار زندگی گزارنے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے پر مجبور کردیتا ہے جبکہ دوسری طرف قانون و تربیت جہاں غائب ہوئے وہاں اخلاق و کردار سب ختم ہوجاتے ہیں۔ (دوسری قسط اگلے ماہنامے میں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭… دار الافتاء اہلِ سنّت فیضان مدینہ ، باب المدینہ کراچی
Share
Articles
छवि
دعویٰ : کسی شخص نے آواگون کے درست ہونے پر یہ دلیل دی کہ ’’دنیا میں ہندو اور بودھ دونوں مذاہب کے لوگ آواگون پر یقین رکھتے ہیں ، ان کی کل آبادی دنیا کا بیس فیصد بنتا ہے
छवि
دینِ اسلام ، خدا کا پسندیدہ دین ہے ، اِسے قبول کئے بغیر کوئی نیکی اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں۔ ایمان و اسلام کے بغیر مرنے والا ہمیشہ جہنم میں رہے گا
छवि
آج کل کچھ طبقوں میں یہ جملہ دہرانے کا فیشن عام ہے کہ اسلام زوال پذیرہے اوراس کی بڑی وجہ اجتہاد کا دروازہ بند ہونا ہے اور اس بندش کا سبب علمائے دین ہیں
छवि
اسلام کی طاقت ، قوتِ بقا اور ناقابلِ زوال ہونے پر دورِ حاضر کی ایک زندہ دلیل یہ ہے کہ اِسلام کو مٹانے کےلیے دنیا میں نِت نئے حربے استعمال کیے جار ہے ہیں۔
छवि
اسلام دشمن اور ان کے متأثرین یہ سوچ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اب اسلام صرف عبادت گاہوں تک محدود ہوتا جارہا ہے اوردین کے پاس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق
छवि
طلاق و رجوع کے موقع پر بعض لوگ نہایت گھٹیا پَن کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ایک یا دو طلاقوں کے بعد رجوع کر کے بیوی کو نکاح میں روک لیتے ہیں ، تاکہ اُس پر ظلم و زیادتی کریں
छवि
یہاں مارنے سے مراد آج کے زمانے کی جاہلانہ مار نہیں ، بلکہ ایک تادیبی تفہیم ہے اور جو اس میں بھی حد سے گزرنے کا عادی ہو یا جسے قوی اندیشہ ہو ، اُسے اِس کی بھی اجازت نہیں۔
छवि
نفل کا دائرہ بہت وسیع ہے ، اس کا تعلق نفلی نماز ، روزے ، صدقات ، حج ، تلاوت ، اَذْکار اور عام زندگی کے آداب و مستحبات سب کے ساتھ ہے۔
छवि
قرآنِ مجید خدا کا وہ روشن کلام ہے جس کی آیات کے انوار ہر زمانے میں چمکتے آ رہے ہیں اور جس کی بے مثل تعلیمات کا اِطلاق و انطباق ہر زمانےپرشان دار انداز میں ہوتا رہتاہے۔
छवि
شریعت کے بیسیوں احکام ایسے ہیں جن میں یہ حکم ہے کہ جس چیز سے بچنا انسان کے لئے مشکل ہو ، ان معاملات میں بہت سی رخصتیں ہیں
छवि
قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ اللہ نے ہر انسان میں خیر و شر کا شعور پیدا کیا ہے۔ (پ30 ، الشمس : 7 ، 8) اسی خیر و شر میں مقابلہ کرتے ہوئے انسان نے خیر اختیار کرنی اور شر چھوڑنا ہوتا ہے
छवि
مختلف مشاہدات و محسوسات کے اسباب : آواگون قسم کے محسوسات ہوں یا دوسری اقسام کے مشاہدات ، یہ سب انسانی دماغ یا روح کے کارنامے ہوتے ہیں ،
छवि
دعویٰ : کسی شخص نے آواگون کے درست ہونے پر یہ دلیل دی کہ ’’دنیا میں ہندو اور بودھ دونوں مذاہب کے لوگ آواگون پر یقین رکھتے ہیں ، ان کی کل آبادی دنیا کا بیس فیصد بنتا ہے
छवि
دینِ اسلام ، خدا کا پسندیدہ دین ہے ، اِسے قبول کئے بغیر کوئی نیکی اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں۔ ایمان و اسلام کے بغیر مرنے والا ہمیشہ جہنم میں رہے گا
छवि
آج کل کچھ طبقوں میں یہ جملہ دہرانے کا فیشن عام ہے کہ اسلام زوال پذیرہے اوراس کی بڑی وجہ اجتہاد کا دروازہ بند ہونا ہے اور اس بندش کا سبب علمائے دین ہیں
छवि
इस्लाम की ताकत, अस्तित्व और अविनाशीता का जीता-जागता सबूत यह है कि दुनिया में इस्लाम को म